ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گجرات کے انتخابی نتائج بی جےپی کے لئے زبردست جھٹکا؛ اپنی ہی زمین میں مودی نے اپنی مقبولیت کھودی ہے؛ راہول گاندھی کا بیان

گجرات کے انتخابی نتائج بی جےپی کے لئے زبردست جھٹکا؛ اپنی ہی زمین میں مودی نے اپنی مقبولیت کھودی ہے؛ راہول گاندھی کا بیان

Tue, 19 Dec 2017 23:20:50    S.O. News Service

نئی دہلی19؍دسمبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) گجرات اسمبلی انتخابات کے نتائج پر پہلی بار عوامی گفتگو میں کانگریس کے نو منتخب صدرراہل گاندھی نے کہا ہے کہ گجرات اسمبلی انتخابات کے نتائج خود بی جے پی کے لیے ایک زبردست جھٹکا ہے ؛ کیونکہ انہوں نے گجرات میں اپنی مقبولیت کھوئی ہے اور کانگریس نے اپنی زمین گجرات میں مضبوط کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹھیک ہے ہم ہارگئے ؛لیکن ہم جیت بھی سکتے تھے تاہم وہاں زمینی طور پر ہم سے کچھ کمی رہ گئی ہوگی ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کانگریس بی جے پی سے لڑنے میں کہیں بھی پیچھے نہیں رہی ؛ بلکہ مستقبل میں بھی اس کا کھل کا مقابلہ کرے گی ۔

واضح ہو کہ گجرات اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے کئی سالوں کے بعد بھگوا پارٹی کو ایسی زبردست ٹکر دی ہے تاہم سیاسی المیہ یہ رہا کہ نشستوں کی تعداد میں بی جے پی بازی لے گئی اور اپنی عزت بچانے میں کامیاب رہ گئی ۔گجراتی عوام نے انتخابی مہم کے دوران ہی  بی جے پی کو یہ واضح عندیہ دے دیا تھا کہ بی جے پی سے وہ نالاں ہیں اور اسمبلی کے نتائج بھی اس سمت اشارہ کرتے ہیں ۔ بی جے پی نے 99 نشستیں حاصل کرکے اپنے وقار کا دفاع کیا وہیں کانگریس نے 80 نشستیں حاصل کی ہیں ۔ راہل گاندھی نے اپنی تقریر میں ان 10نکات پر گفتگو کی ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی اخلاقی شکست کے متعلق قابل ملحوظ امور یہ ہیں گجراتی عوام نے بی جے پی اور مودی کو ایک واضح پیغام بھی دیا ہے کہ آپ کے اندرکا غیظ و شدت کام نہیں کرے گی ؛ بلکہ محبت آپ کو شکست دے گی۔

راہول گاندھی نے مزید کہا کہ گجرات اسمبلی کے انتخابات کے نتائج وزیراعظم نریندر مودی کی ساکھ کے بارے میں بھی سوال قائم کرتے ہیں ۔ملک کے عوام وزیر اعظم مودی کی تقریرپر سماعتوں کو متوجہ نہیں کررہے ہیں یہ بھی ان کی شبیہ و قار پر سوالیہ نشان قائم کرتا ہے ۔ تین یا چار مہینے پہلے جب ہم گجرات گئے تو یہ کہا گیا تھا کہ کانگریس بی جے پی کے خلاف لڑ نہیں سکتی، تاہم تین سے چار ماہ میں ہم نے محنت کی ، نہ صرف میں ؛ بلکہ کانگریس کے کارکنان نے وہ محنت کی کہ گجرات کے عوا م اور آپ گجرات اسمبلی کے نتائج دیکھ رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ گجرات میں بی جے پی نے زبردست جھٹکا لگایا ہے ۔ مگر یہ ہمارے لئے ایک اچھا نتیجہ ہے۔ ہمارے پاس کھونے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا ، مگر ہم نے اس اسمبلی کے انتخابات میں کامیاب کارکردگی کامظاہرہ کیا ۔ راہل گاندھی نے کہا کہ میں دل سے گجرات اور ہماچل پردیش کے لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں ان لوگوں کو بھی مبارکباد دیتا ہوں جنہوں نے اس عددی کھیل میں بازی لے گئے ہیں ۔

راہل گاندھی نے کہا کہ میں نے گجرات دورہ کے دوران یہ محسو س کیا کہ عوام بالخصوص گجرات کے عوام گجرات ماڈل کو تسلیم نہیں کرتے ہیں ۔ ’ وکاس ‘ کی رفتار سست ہے تو بازار اندر سے کھوکھلے ہوچکے ہیں ۔ راہل گاندھی نے کہا کہ ہم نے جو مہم چلائی اس کا کوئی جواب خواہ وہ منفی ہی کیوں نہ ہو ،  نہیں دیا ؛ بلکہ اس سے خود کو بچاتے پھریں ہم نے ’ وکاس ‘ کے خبط کا ذکر کیا تو بھی انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا ۔ آپ نے انتخابات سے پہلے دیکھا ہوگا، مود ی کے پاس کہنے کو کچھ بھی نہیں تھا؛  عموماً لیڈر جاتا ہے اور سوچتا ہے کہ عوام کو کچھ بتاؤں ، تاہم تین ماہ میں گجراتی عوام نے ہمیں بہت کچھ سکھایا انہوں نے یہ بھی سکھایا کہ اگر حزب مخالف کے اندر اشتعال ہے ، شدت غضب ہے اور پیسہ بھی ہے تو آپ اس کو محض پیار او ر الفت سے شکست دے سکتے ہیں ۔

انہوں نے کہا یہ بات مہاتماگاندھی جی نے اسے بہت عرصہ پہلے سکھایا لیکن یہ بات گجرات میں ہے اور یہ بہت گہری بھی ہے ۔ گجرات نے بی جے پی اور وزیراعظم مودی کو ایک پیغام بھیجا ہے کہ آپ جوشدت غضب سے کام لیتے ہیں یہ آپ کے لیے سود مند نہیں ہے ، بلکہ محبت اور باہمی الفت اس کو شکست دے گی ۔ ترقی کے عنوان پرانہوں نے کہا کہ اس انتخاب کے ذیل میں مودی نے کہا تھا کہ یہ ’ وکاس ‘ کا انتخاب ہے ۔ لیکن یہ بڑی ستم ظریفی ہے کہ ان کے بیان میں نہ تو کہیں ’ وکاس ‘ نظر آیا ، نہ جی ایس ٹی پر بات ہوئی اور نہ ہی نوٹ بندی کے افادہ عام پر کچھ کلام کیا گیا ۔راہل گاندھی نے کہا کہ مودی نے مسلسل بدعنوانی کے بارے میں بات کی، مگر وہ  رافیل سودے کے متعلق صرف نظر اختیار کرگئے حتی کہ انہوں نے جے شاہ کے معاملے میں بھی خاموشی اختیار کرلی ۔ جب کہ تقاضا تویہ ہے کہ اس سلسلے میں بات کی جائے یہ ان کا دوہرا معیار ہے ۔ 


Share: